• الحمد للہ جامعہ عثمانیہ پشاور نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سالانہ امتحان۱۴۳۷میں سات ملکی اور چودہ صوبائی پوزیشنیں حاصل کی ہیں

تاریخی سفر

جامعہ عثمانیہ پشاور کا قیام درحقیقت مدارس عربیہ اور معاہد دینیہ کے اس تاریخی تسلسل کی ایک کڑی ہے جس کی ابتدا مسجد نبوی سے متصل صحابہ کرام کی تعلیم وتربیت کے لیے اولین درسگاہ''صفہ''سے ہوئی ۔امت مسلمہ کے عروج وزوال اور تاریخ اسلام کے نشیب وفراز کے ادوار کے باوجود مدارس عربیہ نے علوم نبوی کی اشاعت اور اسلامی تہذیب وثقافت کے تحفظ میں اپنا کردار اداکیا۔جہاں کہیں ضرورت محسوس ہوئی تو تکوینی طورپر کسی بہانے سے علماء کرام اور اہل خیر کی باہمی معاونت سے دارالعلوم یا مدرسہ کے نام سے تعلیمی ادارہ معرض وجود میں آیا ۔

جامعہ عثمانیہ کا تعارف نامکمل رہے گا اگر ڈھیر ی باغبانان پشاور کی اس نیک سیرت خاتون کا ذکر نہ کیا جا ئے جس نے اپنے مرحوم شوہر کے ایصال ثواب کے لیے موجودہ عثمانیہ کا لونی پشاور میں ایک مسجد اور اس کے ساتھ چھ کمروں کی تعمیر اس لیے شروع کی کہ اس میں کسی حافظ یا قاری کو بٹھا کر قرآن پڑھا نے کا سلسلہ شروع کیا جا ئے ۔جب مسجد کی چھت کے لیے اس کے پاس کوئی سرمایہ نہ رہا تو اللہ کی اس نیک بندی نے اپنا زیوربیچ کر چھت تو ڈلوادی مگر اس سے زیاد ہ کچھ کرنے کی اس کی ہمت نہ رہی ،اب تلاش شروع ہوئی کسی عالم یاقاری کی ،جو یہ جگہ سنبھال کرکسی طرح اس کی تعمیر مکمل کراکر تعلیم قرآن کا سلسلہ شروع کردے ،اس جستجو اور تلاش میں اس خاتون کے متبنّٰی حاجی محمد حسین اور دیگر افراد کی رسائی دارالعلوم حقانیہ کے استاذ حدیث ،نائب رئیس دار الافتاء اور شعبہ تخصص کے مشرف مفتی غلام الرحمن تک ہوئی اور بہت اصر ار کے ساتھ انہیں یہ پیش کش کی کہ وہ خود تشریف لا کر یہاں مدرسے کاکام شروع کردیں ۔اس طرح مفتی صاحب نے ڈیڑھ کنا ل کے رقبے پر ایک تشنہ تکمیل مسجد اور چھ کمروں کی سرپرستی قبول فرمائی اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کر یہاں جامعہ عثمانیہ کی بنیاد ڈال دی ١٩٩٢ء میں اعدادیہ ،متوسطہ ،درجہ اولیٰ اور درجہ ثانیہ کے ابتدائی درجات کے چالیس طلبہ اور تین اساتذہ سے یہاں تعلیمی سلسلے کا آغاز ہوا۔تقریبا ہر سال درجات کی تدریجی ترقی اور طلبہ کی تعداد کے اضافے کے ساتھ آٹھویں سال یہاں دورہ حدیث کا آغاز ہوا۔جبکہ تخصص فی الفقہ الاسلامی والافتاء کے شعبے کا آغاز١٩٩٦ءمیں حضرت مفتی صاحب کے دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے چوبیس سالہ وابستگی کے بعد مستقلاًپشاورمنتقلی کے وقت سے ہو چکا تھا ۔

جامعہ کے تاسیسی منصوبوں میں شعبہ بنات کا قیام بھی تھا جس کا آغاز٢٠٠٠ءمیں ہوگیا۔پانچ سال کے قلیل عرصے میں دورہ حدیث کی کلاس تک پہنچنے پر اس کی تکمیل ہوئی۔

بحمداللہ آج مکمل شعبہ درس نظامی ،تخصص فی الفقہ ،شعبہ حفظ وتجوید اور شعبہ بنات پر مشتمل اس جامعہ نے ایک اسلامی یونیورسٹی کی شکل اختیار کی ہے۔جس میں سینکڑوں طلبہ وطالبات زیور تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں ۔علاوہ ازیں افتا ء وتحکیم،تصنیف وتالیف ،ماہنامہ العصر اور عثمانیہ ویلفئیر ٹرسٹ کے شعبے بھی جامعہ کا حصہ ہیں ۔جن کا تفصیلی تعارف آپ آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔ جامعہ کی طرف مراجعت کرنے والے کے لیے شرط اگر چہ میٹر ک تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ درجہ متوسطہ کے سندیافتہ طلبہ کوبھی امتحان میں شرکت کا موقع دیا جا تا ہے ۔٢٠٠٩ءسے میٹر ک پا س ہو نے کی شرط لازمی قرار دینے کی وجہ سے ابتدائی درجا ت کے طلبہ کو میٹرک تک عصر ی تعلیم دینے کے لیے ''عثمانیہ چلڈرن اکیڈمی''کا قیام عمل میں لایا گیا جس کی باقاعدہ رجسٹریشن ثانوی تعلیمی بورڈ پشاور کے ساتھ ہو چکی ہے ۔جہاں متوسطہ میں ایک سال کے اضافے کے ساتھ طلبہ میٹرک کا امتحان دے سکیں گے ۔اور یہ ارادہ رکھتے ہیںکہ آئندہ کے لیے ''کلیۃ الشرعیۃ''کے نام سے ایسا شعبہ قائم ہو جس میں درس نظامی کے شعبہ کو متاثر کیے بغیر باصلاحیت طلبہ درس نظامی اور عصری علوم کے جامع نصاب پڑھ کر میدان میں نکلیں۔

بحمداللہ جامعہ عثمانیہ مقامی طورپر عثمانیہ کا لونی میں ڈھائی کنا ل زمین پر سہ منزلہ دل کش عمارت،بنات کے لیے ١٩ مرلہ زمین پر سہ منزلہ پرکشش عمارت اور اساتذہ وملازمین کے لیے ٧ مکانات کے ایک کیمپس کی شکل میں موجود ہے ۔جبکہ جامعہ کے خادم اور شوریٰ کے رکن حاجی غیاث الانام صاحب کی طرف سے ٤٦ کنال زمین وقف کرنے اور قرب وجوار میں ١٨ کنال زمین کی خریداری سے ٦٤ کنال کے وسیع اراضی پر توسیعی منصوبہ گلشن عمر چراٹ روڈ پبی پر ٢٠٠٠طلبہ کے لیے مجوزہ نیو کیمپس کی عمارت پر کام شروع ہے ۔جس میں جامع مسجد ''عبداللہ بن مسعود ''اور طلبہ کے لیے ہاسٹل ''دارابی حنیفہ''کی عمارت پر کا م شروع ہے ۔عصری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طلبہ وطالبات کی تربیت جامعہ کے بنیادی اہداف میں شامل ہے ۔تاکہ یہی بچے اور بچیاں آگے جاکر عصری تقاضوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کرسکیں ۔آج معاشرہ میں دین کی خدمت کے شعبوں میں تشنگی محسوس ہورہی ہے ۔خداکرے کہ جامعہ کے فضلاء وفاضلات ان میدانوں میں اپنی خداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عبادت کے جذبے سے دین کی خدمت اپنا فریضہ سمجھتے ہوئے یہ کمی پوری کرسکیں ۔

''چھوٹا منہ بڑی بات '' ضرورہے لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور فیاضی سے صرف امیدہی نہیں بلکہ یقین کے درجہ میں اعتماد رکھنے پر ہم مکلف ہیں ۔یہی تو اس کا کرم ہے کہ وہ ''انا عند ظن عبدی بی ''اپنے بندوں سے ان کے گمان کے مطابق معاملہ کرتے ہیں

وماذالک علی اللّٰہ بعزیز

فیس بک پر پائیے

 

091-5240422 - 091-5240444

:رابطہ نمبرز

091-5272470

:فیکس

0333-2120608

:موبائل نمبر

jamiausmania1992@gmail.com

:ای میل
نوتھیہ روڈ  پشاور P.O. Box 1209 :ایڈریس
 

Copyright © Allrights Reserved 2017

پڑ ھنے میں دوشواری کے لیے ہیاں کلیک کریں

Powered By AK Tech. Solutions